’ڈو مور‘ پر کا قضیہ

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستانی فوج نے فخر سے یہ اعلان کیاہے کہ اس کے دستوں نے آج رات کرم ایجنسی میں کارروائی کرتے ہوئے ایک کینیڈین امریکی جوڑے اور ان کے تین کم سن بچوں کو رہا کروالیا ہے۔ میاں بیوی کو 2012 میں افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا۔ امریکی حکام نے پاکستانی فوج کی اس کارروائی کے نتیجہ میں امریکی اور کینیڈین شہریوں کی رہائی پر خوشی اور شکرگزاری کا اظہار کیا ہے۔ لیکن وہائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کی یہ کارروائی خوش آئیند ہے اور ’ڈو مور‘ کے امریکی مطالبہ کے عین مطابق ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں خوشگوار تبدیلی رونما ہوگی۔ امریکی صدر کا یہ اعلان شکر گزاری کی بجائے پاک فوج اور حکومت پاکستان کا منہ چڑانے کے مترادف ہے جس کا کہنا ہے کہ پاکستان اب امریکہ کے ’ڈو مور‘ کے مطالبوں کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اب امریکہ اور دنیا کو مزید اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کرم ایجنسی میں ہونے والی کارروائی اس لحاظ سے خوش آئیند ہے کہ پاک فوج نے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر مؤثر کارروائی کی جس کے نتیجہ میں پانچ برس سے طالبان کی قید میں کنیڈین مرد جوشوا بوئل اور امریکی خاتون کیٹلن کولمن کو ان کے تین بچوں سمیت رہا کروا لیا گیا۔ اس جوڑے کے تینوں بچے طالبان کی قید کے دورا ن پیدا ہوئے تھے۔ یہ کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی فوج نے بلاشبہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے سرگرم عمل ہے۔ یہ کارروائی پاک فوج کی اعلیٰ صلاحیتوں کا بھی بھرپور اظہار ہے۔ اس سے پہلے امریکی فوج افغانستان میں اغوا کئے گئے بعض امریکی شہریوں کو رہا کروانے کے لئے کئے گئے آپریشن میں ناکام ہو چکی ہے۔ پاک فوج کا یہ اس اقدام بلا شبہ توصیف کے قابل ہے۔ لیکن امریکہ کے منہ زور اور عاقبت نااندیش صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس موقع پر بھی خود کریڈٹ لینے اور یہ بتانے کی احمقانہ کوشش کررہے ہیں کہ پاک فوج دراصل ان کی سخت گیر پالیسی کی وجہ سے یہ کارروائی کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ ایک قابل قدر فوجی آپریشن پر شکر گزاری کا اظہار کرنے کی بجائے امریکی صدر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں جیسے پاکستان اور اس کی فوج ان کے ماتحت ادارے ہوں جو ان کے حکم کی تعمیل میں سرگرم عمل ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اس اشتعال انگیز بیان پر پاکستان کو سخت احتجاج رجسٹر کروانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان کے بارے میں نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو خاص طور سے نشانہ بنایا گیاتھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں حالات کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ وہ طالبان قیادت کو پناہ دیتا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف مستعدی سے کام کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا۔ خاص طور سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی کا الزام عائد کیا جاتا ہے جو مبینہ طور پر افغانستان میں دہشت گردی کی متعدد کاروائیوں میں ملوث ہے۔ وہائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے صدر ٹرمپ کے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ آج جن لوگوں کو رہا کروایا گیا ہے، وہ حقانی نیٹ ورک کی تحویل میں تھے۔ اس طرح پاکستان کو یہ باور کروایا گیا ہے کہ امریکہ کا یہ مؤقف درست ہے کہ حقانی نیٹ ورک پاکستانی علاقوں سے کارروائیاں کرتا ہے۔

پاک فوج کے سربراہ جنر ل قمر جاوید باجوہ نے صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی تقریر کے بعد امریکی صدر کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بلا تخصیص سب دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کی ہے اور اس کی توصیف ہونی چاہئے۔ انہوں نے ’ڈو مور‘ کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اب دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد سے پاکستان کی یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ ’ڈو مور‘ کا مطالبہ پورا نہیں کرے گا بلکہ اب امریکہ اور دوسرے ممالک ڈو مور کرکے دکھائیں۔ حال ہی میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکہ کے دورہ کے دوران اسی بات کو دہراتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو مطلع کیا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہے اس لئے ڈو مور کی بات کرنا درست نہیں ہے۔

اب ایک کامیاب اور خوش آئیند فوجی کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ دعویٰ کہ پاکستان ان کی ہدایت کے مطابق امریکہ کو خوش کرنے اور اس کے اہداف پورے کرنے کے لئے کارروائی کررہا ہے ، پاکستان کے سرکاری مؤقف کا مضحکہ اڑانے کے کے مترادف ہے جس پر سخت احتجاج کرنا ضروری ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...