امریکی اعتراض

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 10 2017

پاکستان اور چین نے امریکہ کے اس دعویٰ کو مسترد کیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری معاہدہ کے تحت تعمیر ہونے والی شاہراہ متنازعہ علاقہ سے گزرتی ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع جیمز ماتھس نے کل سینیٹ کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے اس بھارتی مؤقف کی تائد کی تھی کہ سی پیک کے تحت تعمیر ہونے والی راہداری ایسے متنازعہ علاقہ سے گزرتی ہے جس پر بھارت بھی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ پاکستان گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ نہیں مانتا اور اس کا کہنا ہے کہ بھارت نے ناجائز طور سے کشمیر کے ایک حصے پر قبضہ کیا ہؤا ہے اور وہاں فوج کے ذریعے کشمیری عوام کی مرضی کے بغیر بھارتی حاکمیت مسلط کرنے کی ناروا کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سی پیک کے بارے میں امریکی وزیر دفاع کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ سی پیک پر اعتراض کرنے کی بجائے امریکہ ، بھارت کو اقوام متحدہ کی قرارد ادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کرے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بات ہونی چاہئے۔

سی پیک پر اعتراض کرتے ہوئے دراصل امریکہ نے دو مقاصدحاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف وہ ایک واضح بھارتی مؤقف کی حمایت کرکے پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے افغانستان کے حوالے سے اپنی بعض شرائط قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایشیا اور افریقہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں اپنی تشویش ریکارڈ پر لانا چاہتا ہے۔ اسی لئے سیکرٹری جیمز ماتھس نے نہ صرف سی پیک کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے بلکہ چین کے وسیع تر منصوبے ون بیلٹ ون روڈ کو بھی گلوبلائزیشن کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ایک ملک کسی ون بیلٹ ون روڈ پر اجارہ داری کا دعوے دار نہیں ہو سکتا۔ بلکہ دنیا میں بہت سے راستے ہیں جن کو مختلف ممالک تجارتی اور مواصلاتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

چین نے امریکی وزیر دفاع کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ اقوام متحدہ کے علاوہ 70 ممالک اور عالمی تنظیمیں ون بیلٹ ون روڈ OBOR کے معاہدے میں شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے علاوہ سیکورٹی کونسل نے بھی اس کے تائد کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سی پیک ایک اقتصادی معاہدہ ہے اور پاکستان اور چین بار بار واضح کرچکے ہیں کہ یہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ اس لئے امریکہ کی طرف سے اس بارے میں اعتراض بے بنیاد اور بلا جواز ہے۔ ترجمان نے یاد دلایا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ کے حوالے سے منعقد ہونے والے فورم میں دنیا کے 130 ملکوں اور 70 تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے تھے۔ یہ منصوبہ جدید عالمی رجحانات اور ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔

امریکہ کا مسئلہ یہ ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ اسے دنیا پر اپنا کنٹرول خطرہ میں محسوس ہو رہا ہے۔ یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ امریکہ نے چین کا راستہ روکنے اور اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لئے ہی بھارت کی طرف رجوع کیا تھا اور اس کے ساتھ جوہری تعاون سے لے کر صنعتکاری کے معاہدے کرکے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کہ بھارت کی پیداواری شرح بڑھتی رہے اور وہ اقتصادی اور عسکری طور پر چین کا مقابلہ کرتے ہوئے ایشیا میں چین کا راستہ روکنے والی قوت کے طور پر سامنے آئے۔ فی الوقت یہ امریکی پالیسی بار آور نہیں ہو سکی۔ بھارت میں نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت کے دوران مذہبی انتہا پسندی اور گروہی افتراق میں اضافہ ہؤا ہے جس کا اثر معاشرتی پیدا وار پر بھی مرتب ہو رہا ہے۔ نریندر مودی کامیاب اقتصادی حکمت عملی اختیار کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے بھارت کی قومی پیداورا میں اضافہ کی شرح متوقع سات فیصد سالانہ کی بجائے چھ فیصد سالانہ سے بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ چین کا صنعتی ڈھانچہ ، قومی معیشت اور عسکری قوت بھارت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ بھارت اپنی کثیر آبادی کی ضرورتیں پوری کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔ اس لئے اس بات کا امکان نہیں ہے کہ بھارت مستقبل قریب میں چین کے بڑھتے ہوئے تجارتی اور اسٹریجک اثر و رسوخ کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان یہ فرق بھی موجود ہے کہ چین ون بیلٹ ون روڈ معاہدہ کے تحت علاقے کے سب ملکوں کو ساتھ لے کر چل رہا ہے اور اس نے بھارت کو بھی اس منصوبہ میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے۔ لیکن بھارت کی حکمت عملی امریکہ کے ساتھ مل کر چین کا راستہ روکنے کی ہے۔ اس طرح وہ ضد اور مقابلے کی پالیسی اختیار کرکے دراصل امریکہ کا آلہ کار بنا ہؤا ہے۔ سی پیک پر اعتراض کا سلسلہ شروع سے ہی جاری ہے حالانکہ پاکستان اور چین کے علاوہ کشمیری لیڈر بھی اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں کہ بھارت کو اس منصوبہ کا حصہ بننا چاہئے تاکہ پورے علاقے کی اقتصادی ترقی کا راستہ ہموار ہوسکے۔ بھارت کی طرف سے اس قسم کے مثبت اقدام سے معاشی احیا کے علاوہ سیاسی مسائل کے حل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی تھی۔ لیکن بھارت نے تعاون کی بجائے تصادم کا راستہ اختیار کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بند کیا ہؤا ہے اور عالمی سطح پر اسے دہشت گردی کی حمایت کرنے والی ریاست قرار دلوانے کی کوششیں کررہا ہے۔

امریکہ کی طرف سے سی پیک کے حوالے سے گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرار دینے کی نئی امریکی پالیسی کے نتیجہ میں بھارت کو مزید حوصلہ حاصل ہوگا۔ پاکستان کے دگرگوں سیاسی حالات، سول ملٹری تعلقات میں تناؤ اور مستقبل کی حکومت کے بارے میں اندیشوں اور شبہات کی وجہ سے سی پیک کے علاوہ ملک میں اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ ان حالات میں نیا امریکی مؤقف بلاشبہ پاکستان کی سیاسی اور سفارتی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنے گا۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...