’مسلمان ہونے یا ثابت کرنے کیلئے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں‘

  وقت اشاعت: 12 2017

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ مجھے کسی کو ثبوت نہیں دینا کہ میں مسلمان ہوں کیونکہ یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے۔

جامعہ کراچی میں تقریب کے دوران طلبا سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ جامعہ کراچی آیا ہوں، یہاں آکر لگا کہ خواتین کی یونیورسٹی آیا ہوں تاہم میں نے جامعہ میں طالبات کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ بھی وی سی سے پوچھی۔ سب سے پہلے ہم بنیاد پرستی کے موضوع پر بات کریں گے، بنیاد پرستی کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، میں بھی بنیاد پرست ہوں، مغرب ممالک اور بھارتی بھی بنیاد پرست ہیں لیکن ہر بنیاد پرست دہشت گرد نہیں اور ہر دہشت گرد بنیاد پسند نہیں ہوتا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ سب دنیا کو میری نظر سے دیکھیں تو میں بنیاد پرست نہیں انتہا پسند کہلاؤں گا، جب میں دوسروں کو اپنے نظریات ماننے پر مجبور کروں تو تشدد پسند یا دہشت گرد کہلاؤں گا۔ پاکستان اللہ کا تخلیق کردہ سب سے خوبصورت ملک ہے، جغرافیائی لحاظ سے بھی پاکستان کی اہمیت سب سے زیادہ ہے، کسی بھی ملک کو تباہ کرنے کے لیے اس کی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ مجھے کسی کو ثبوت نہیں دینا کہ میں مسلمان ہوں، یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے، مسلمان ہونے کے لیے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں عمل سے ثابت کریں، ہم اسلام کے اصولوں پر عمل کریں تو دنیا ہمیں اسلامی ملک کے طور پر پہچانے گی، اللہ نے دنیا کو ہر نعمت سے نوازہ ہے جب کہ ہر موسم ہر پھل دریا پہاڑ صحرا سب اس ملک میں ہے۔ سویت یونین جب افغانسان آیا تو کہا گیا اس سے اسلام کو خطرہ ہے، امریکا کی مدد سے سوویت کو افغانستان سے نکالا تاہم نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا، امریکہ سے لڑنے والوں کو وہاں پناہ نہیں ملی تو پاکستان آگئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم نے آپریشن ضرب عضب کامیابی سے مکمل کیا، ہم نے مرحلہ وار اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا اور آج پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...