حالات حاضرہ


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ کہہ کر کہ آرمی چیف کو ملک کی معیشت کے بارے میں بات کرنے کا حق حاصل ہے، اس تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جو گزشتہ ہفتہ کے دوران کراچی کے ایک سیمینار میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقریر کے بعد شروع ہوا تھا۔ آرمی چیف نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام آگے بڑھا ہے لیکن انہوں نے ملک پر بڑھتے ہوئے قرض پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آمدنی میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ ملک میں ٹیکس دہندگان کی شرح میں اضافہ ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملک کے تاجروں اور صنعت کاروں کو بھی وہی مشورہ دیا تھا جو کچھ عرصہ قبل وہ امریکہ اور دنیا کو دے چکے تھے کہ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف اپنے حصے کا کام بخوبی سرانجام دیا ہے اب معاشرے کے باقی شعبوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تا کہ ملکی معیشت مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشی صورتحال اور ملکی سلامتی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس تقریر پر تو دبے لفظوں میں چند ہی حلقوں کی طرف سے حرف زنی ہوئی تھی کہ کیا اب قومی سلامتی اور خارجہ امور کے بعد فوج ملک کی معیشت کے اہم فیصلے کرنے کا اختیار بھی خود ہی حاصل کرنا چاہتی ہے۔  تاہم جب آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ ملک کی معیشت اگر مکمل طور سے تباہ حال نہیں تو وہ مستحکم بھی نہیں ہے۔ اس پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے امریکہ میں ہونے کے باوجود سخت لفظوں میں میجر جنرل آصف غفور کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ انہیں ایسے بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے۔  اس سے ملک کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے اس تنقید کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ تنازعہ سول ملٹری اختلاف کے کھلم کھلا اظہار کی صورت اختیار کر گیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سابق فوجی آمر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بیک وقت فوج کی حمایت میں مسلم لیگ (ن) کے قیادت پر نکتہ چینی کی ہے۔ پرویز مشرف تو فوج پر تنقید کو ملک سے غداری کے مترادف قرار دے رہے ہیں جبکہ عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں نے عدلیہ اور فوج پر حملے بند نہ کئے تو ایک بار پھر اسلام آباد کا محاصرہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ پرویز مشرف کی طرف سے فوج کی حمایت میں کسی بھی حد تک جانا قابل فہم ہے۔ وہ چالیس برس سے زائد عرصہ تک اس ادارے سے وابستہ رہے اور دس برس تک اس کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ اسی حیثیت کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا اور آئین کو پامال کرتے ہوئے فوجی طاقت کے زور پر پہلے چیف ایگزیکٹو اور پھر صدارت کے عہدے پر متمکن رہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر وہ اس وجہ سے بھی فوج کے ممنون احسان ہیں کہ ان کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ فوج سے تعلق اور سابقہ آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی مداخلت کی وجہ سے ہی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکا۔ وہ نواب اکبر بگٹی اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمات سے بھی جان بچا کر ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ وہ خود بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ پاکستان کے عدالتی نظام سے ان کی جان چھڑانے میں جنرل (ر) راحیل شریف نے مدد فراہم کی تھی۔ تاہم ایک شخص کی طرف سے جو خود بار بار پاکستانی قانون اور آئین کو پامال کر چکا ہو اور اس کے سامنے جوابدہ ہونے سے منکر ہو، ملک کی کسی بھی سیاسی قیادت پر فوج کے ساتھ معاملات کے حوالے سے گفتگو سے گریز کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے آج ایک سیاستدان کی طرح وزیر داخلہ احسن اقبال کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کے اس الزام کو مسترد کیا کہ فوج کے ترجمان جب غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے ہیں تو عالمی سطح پر پاکستان کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے۔ جس طرح احسن اقبال نے ایک اچھے سیاستدان کے طور پر ملک سے باہر ہونے کے باوجود ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں میجر جنرل آصف غفور کی باتوں کا نوٹس لینا ضروری سمجھا تھا، اسی طرح آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بھی آج اس کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر گلاس آدھا بھرا ہو تو کیا یہ فکر نہیں کرنی چاہئے کہ آدھا گلاس خالی بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی جتایا ہے کہ وہ بطور سپاہی اور پاکستانی شہری وزیر داخلہ کے بیان سے  مایوس ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ واضح کرنا بھی ضروری سمجھا ہے کہ وہ کوئی بھی بات ذاتی حیثیت میں نہیں کرتے بلکہ فوج کے ترجمان کے طور پر کہتے ہیں۔ گویا انہوں نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو متنبہ کیا ہے کہ جب وہ آئی ایس پی آر کے سربراہ کی باتوں کو غیر ذمہ دارانہ کہتے ہیں تو دراصل وہ فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ دلیل اور جوش خطابت میں میجر جنرل آصف غفور منجھے ہوئے سیاستدان احسن اقبال پر بازی لے گئے۔ لیکن انہوں نے یہ سیاسی باتیں فوج کی یونیفارم پہن کر، فوج کے ترجمان کے طور پر کی ہیں۔ کسی بھی جمہوری انتظام میں انہیں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر داخلہ کے ساتھ سیاسی میچ برابر کرنے کیلئے ضروری تھا کہ میجر جنرل آصف غفور فوج سے علیحدگی اختیار کر کے دو سال کی قانونی مدت پورے کرنے کے بعد یہ گفتگو کرتے تو ان کو سراہنے کیلئے دو تالیاں ہم بھی بجاتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

آج جو وقوعہ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش آیا ہے، یقین کرلیا جائے کہ اس قسم کی حرکتوں سے نہ سیاست کامیاب ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس ملک کا نظام مستحکم ہو سکتا ہے۔ اس لئے بہتر ہو گا کہ عدالتوں کو تماشہ بنانے کی بجائے ، ان کا احترام کرنے کا چلن عام کیا جائے۔ پاکستان کے حوالے سے افسوسناک روش یہ ہے کہ عدالتوں کے احترام کے معاملہ کو بھی متنازعہ اور اختلافی بنایا دیا گیا ہے۔ جو معاملہ یا عمل دوسرے کی طرف سے سرزد ہونے پر اشتعال انگیز اور ناقابل قبول ٹھہرتا ہے، وہی جب خود کیا جاتا ہے تو اپنی ہی پیٹھ ٹھونک کر خود کو شاباش دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ آج کے سانحہ کے بعد مسلم لیگ (ن) کے بعض عاقبت نااندیش کررہے ہیں۔ یا بعض رہنماؤں کی طرف سے اس واقعہ سے لاتعلقی کے اظہار کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ ایک معمول کا واقعہ تھا جس میں وکیلوں کی پولیس سے جھڑپ ہوگئی۔ بعد میں احتساب عدالت کے جج کو شکایت کی گئی جنہوں نے سماعت بھی ملتوی کردی اور وقوعہ کی تحقیقات کا حکم صادر کیا۔ مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کو سمجھنا چاہئے کہ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔عدالت کے باہر کارکنوں اور حامیوں کو جمع کرنا اور نعرے بازی کروانا اور سیکورٹی انتظامات کو خراب کرنا بظاہر ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے۔ اس قسم کی حکمت عملی سے جمہوریت کے بارے میں کوئی بھی ڈراؤنا خواب حقیقت کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ جمہوریت سے محبت کرنے والے ہر شخص کو اس طرز عمل کو مسترد کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

اٹھارہ برس پہلے آج ہی کے روز ایک سیاہ رات نے اس ملک کو اپنی آغوش میں لیا تھا اور پاک فوج کے برطرف شدہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے منتخب وزیراعظم نواز شریف پر طیارہ اغوا کرنے کی سازش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ نواز شریف گرفتار ہوئے اور متعدد الزامات میں قصور وار ٹھہرائے گئے جبکہ عدالت عظمیٰ نے آئین سے بدعہدی کرنے والے فوجی کمانڈر کو اعزاز بخشا۔ نہ صرف اس کے اقدام کو درست قرار دیا گیا بلکہ انہیں تین سال تک آئین میں من چاہی ترامیم کرنے کا حق بھی دے دیا گیا۔ اس طرح تقریباً ساٹھ پہلے 7 اکتوبر 1958 کی رات کو ملک میں عوامی حاکمیت کے خلاف فوجی و عدالتی قیادت کے درمیان جس گٹھ جوڑ کا آغاز ہوا تھا، وہ جاری رہا۔ پاکستان میں ہر فوجی حکومت ملک کی اعلیٰ عدالتوں اور اس کے معزز ججوں کی کم ہمتی کا منہ بولتا ثبوت رہی ہے۔ نہ تو فوج نے آج تک اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کے 4 سابق سربراہان نے آئین کی خلاف ورزی کر کے غیر قانونی و غیر اخلاقی اقدام کیا تھا اور نہ سپریم کورٹ یہ اعلان کرنے کے باوجود کہک اب ’’نظریہ ضرورت‘‘ کو دفن کر دیا گیا ہے۔۔۔ یہ اعتراف کر سکی ہے کہ ماضی میں قانون و آئین سے ماورا اس نظریہ کو ایجاد کر کے اور اس کے سہارے ملک کے عوام کے حق حکمرانی پر ڈاکہ ڈالنے کی توثیق کر کے سپریم کورٹ بار بار اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی کی مرتکب ہوئی تھی۔ اس بھیانک پس منظر کے باوجود آج جمہوریت پھر ان ہی دونوں اداروں کے رحم و کرم پر ہے اور سیاستدان کٹہرے میں کھڑے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 2017

 پاکستان کی ایک چھوٹی سی اقلیت کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی دھواں دار تقریر کسی مذہبی جذبہ کے تحت نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کیلئے کی گئی ہے۔ ورنہ خود بدعنوانی کے سنگین الزامات میں ملوث شخص کو اچانک احمدیوں کی طرف سے مملکت کو لاحق خطرات کا اندیشہ ناقابل فہم ہے۔ انہیں تو خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دینے کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ اگر وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنی عقیدت اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے آخری نبی کے فرمودات کے بارے میں اتنے ہی حساس اور جذباتی ہیں تو انہیں عدالتوں میں اپنی اہلیہ اور ان کے خاندان کے جرائم کی پردہ پوشی کی بجائے، وہ ساری معلومات صدق دل سے سامنے لانے کی ضرورت ہے جو خاندان کے رکن کے طور پر ان کے علم میں ہیں تا کہ اگر نواز شریف، ان کے بچوں اور دیگر اہل خاندان نے کوئی جرم کیا ہے یا بدعنوانی کے مرتکب ہوئے ہیں تو انہیں اپنے کئے کی سزا مل سکے۔ اس کے برعکس کیپٹن صفدر جب سپریم کورٹ کی نگرانی میں بننے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے خود کو فقیر منش، قانع اور دنیا سے بے غرض شخص کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔البتہ وہ یہ بتانے سے قاصر رہے تھے کہ ان کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور پرتعیش زندگی کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنی اور اپنے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل نہیں ہے اب قومی اسمبلی میں تقریر کے ذریعے پوری قوم کو ایک ان دیکھی تباہی سے بچانے کا دعویٰ کر کے دراصل نفرت اور تعصب کے ایک ایسے طوفان کو دعوت دے رہا ہے جو ملک کے بحران کو مزید سنگین کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 2017

امریکہ کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع آئندہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ یہ دورے واشنگٹن سے سامنے آنے والے ان اشاروں کے بعد ہونے والے ہیں جن میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بجائے اسے ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے تا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے مل کر کام کیا جا سکے۔ تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ امریکہ مسلسل پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تا کہ اسے اپنی من مانی پر مجبور کیا جا سکے۔ دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ ماہ نئی افغان پالیسی میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا سارا بوجھ پاکستان پر ڈالنے کی وجہ سے پاکستان کی فوج اور سیاسی قیادت نے یکساں سخت موقف اختیار کیا تھا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا گیا تھا کہ اب پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کرنے کی بجائے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرنا ہو گا۔ قومی اسمبلی نے بھی انہی خطوط پر ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے امریکی مطالبات کو مسترد کر دیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران وزیر خارجہ خواجہ آصف نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں پاکستان کے تحفظات کا ذکر کیا۔ پاکستان کو بنیادی طور پر دو باتوں پر اعتراض ہے۔ ایک تو یہ کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے باوجود اس کی خدمات کا اعتراف کرنے کی بجائے اس پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ دوسرے امریکہ اگر افغانستان میں حالات سے نمٹنے کیلئے وہاں بھارت کے اثر و رسوخ میں اضافہ کا سبب بنے گا تو یہ براہ راست پاکستان کے مفادات پر چوٹ ہو گی اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات متاثر ہوں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 2017

وزیر داخلہ احسن اقبال نے کل قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں فتوے جاری کرنے کی فیکٹریاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کرنے کو ریاست کا استحقاق قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے ’’ حب اللہ اور حب رسول کسی کی فرنچائز نہیں ہے۔ کسی کے پاس یہ ٹھیکہ نہیں ہے کہ اس سے سرٹیفکیٹ نہ لیا تو تعلق ٹوٹ جائے گا‘‘۔ وزیر داخلہ نے مذہبی جذبات کی بنیاد پر سیاست کو گھناؤنا جرم بھی قرار دیا۔ دو روز پہلے رینجرز سے پنجہ آزمائی کے بعد اب احسن اقبال ملک کے مختلف فرقوں سے نبرد آزما ہونے کا اعلان کر رہے ہیں لیکن کیا وہ یہ بتا سکین گے کہ ان کی حکومت کس حد تک اس موقف پر قائم رہ سکتی ہے اور کسی بھی مذہبی گروہ کی حمایت کیلئے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کرنے کا حوصلہ کرتی ہے۔ ملک کی حکومت کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ اس کی سیاست صرف بیان بازی کی حد تک ہے۔ جب عملی اقدامات کا وقت آتا ہے تو یہ صرف سمجھوتوں اور سیاسی ضرورتوں کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال مولانا فضل الرحمان کی مسلسل حکومت میں موجودگی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) متوازن سوچ، سیکرلر معاشرہ اور مذہبی رہنماؤں کو سیاسی ہتھکنڈے سے پرے رکھنے کے ہر اس اصول کے خلاف ہے جس کا اظہار وقتاً فوقتاً مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی طرف سے سننے میں آتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 2017

جب ملک کے سب ہی سیاستدان نئے انتخابی بل میں ختم نبوت کے بارے میں حلف نامہ کو حذف کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف تھے اور حکومت نے اس معاملہ کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ایک نئے ووٹ کے ذریعے مجوزہ حلف نامہ کو نئے قانون کا حصہ بنانے کیلئے اقدام کرنا ضروری سمجھا۔ تاہم اس دوران اسلام آباد سے ہزاروں میل دور واشنگٹن میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن سے ملاقات میں یہ وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ پاکستان نے اچھے اور برے دہشت گرد میں فرق کرنا چھوڑ دیا ہے اور وہ ہر قسم کے گروہوں کے خلاف یکساں تندہی سے مصروف عمل ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ ان وضاحتوں سے مطمئن ہوئے یا نہیں اس بارے میں کچھ کہنا تو مشکل ہے تاہم بعد میں اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے ریکس ٹلرسن نے پاکستان کو تنہا چھوڑنے کی بجائے اسے ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی کو ضروری قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان میں حکومت کے مستقبل کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسلام آباد میں ایک مستحکم حکومت ضروری سمجھتا ہے۔ ریکس ٹلرسن جس غیر یقینی صورتحال کو بیان کر رہے تھے، راولپندی میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے نزدیک وہ غیر اہم معاملہ تھا کیونکہ فوج صرف آئینی تقاضوں کے مطابق اپنے فرائض ادا کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 2017

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو آج مسلم لیگ (ن) کی پارٹی جنرل کونسل کے پر جوش اجلاس میں ایک بار پھر متفقہ طور پر صدر منتخب کرلیا گیا۔ اس موقع پر اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں کئی سو مسلم لیگی کارکن جمع تھے اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کی تمام اعلیٰ قیادت موجود تھی۔ ایک بار پھر صدر بننے کے بعد نواز شریف نے اعلان کیا کہ ’مجھے بار بار باہر نکالا جاتا ہے لیکن آپ لوگ مجھے پھر واپس لے آتے ہیں۔ ‘ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آج اس کالے قانون کا خاتمہ ہوگیا ہے جو سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے انہیں سیاست سے باہر نکالنے کے لئے نافذ کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں اپنی واضح اکثریت کی بنیاد پر اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود کل انتخابی اصلاحات بل 2017 منظور کرلیا تھا جس پر رات کو ہی صدر ممنون حسین نے دستخظ کرکے اسے قانون کی شکل دے دی تھی۔ اس طرح قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل ہونے کے باوجودنواز شریف ایک بار پھر اپنی ہی پارٹی کے دوبارہ صدر بننے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس عمل نے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کی سیاست اور مستقبل میں ان کے رول کے بارے میں متعدد سوالوں کو جنم دیا ہے۔ حکمران جماعت اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس طرح جمہوریت کے استحکام کے لئے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ تاہم سیاسی مخالفین اسے ایک بد عنوان سیاست دان اور اس کے زیر اثر پارٹی کی زور ذبردستی قرار دیتے ہوئے انتخابی اصلاحات بل کی منظوری اور نواز شریف کی سیاست میں واپسی کو ملک میں جمہوریت کے لئے بری خبر قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...