نگر نگر


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

یورپ کے بیشتر ممالک میں اسلامو فوبیا  اور دہشتگردی کی آڑ میں نت نئے قوانین و ضوابط  لاگو کرکے شہریوں کو یہ احساس دلانے کی کوششیں کی جارہی ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔ اور انہیں ہر طرح کا تحفظ مہیا کرنے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہنے دی جائے گی ۔ انہی کوششوں کے تحت یورپی یونین کے  بڑے اور اہم ترین ملک فرانس نے  جو اقدامات لیے ہیں وہ بظاہر تو دہشتگردی  و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ہیں لیکن مبصرین کے نزدیک یہ نئے قوانین شہری آزادیوں پر قدغن لگانے یا انہیں محدود کرنے کے مترادف ہیں اور ان سے  غیر جمہوری آمرانہ قوّت کے استعمال کی بو بھی آتی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

آسٹریا میں کرائے گئے پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں ملک کی دائیں بازو کی دو انتہا پسند جماعتوں کی زبردست کامیابی نے جہاں ملک میں  غیر ملکیوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تعصب و نفرت کو مزید بڑھا دیا ہے وہاں یورپ بھر میں اعتدال پسند سیاسی و عوامی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ  اُن کے ہاں بھی اسی طرح کی انتہا پسندی عود نہ کرجائے ۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 جون 2017

ڈنمارک میں قائم ایک برطانوی کمپنی نے  سعودی عرب اور دوسری کئی خلیجی ریاستوں کو  بڑے پیمانے پر نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی  برآمد کی ہے ۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ ممالک اپنے شہریوں کی ہر لحاظ سے نگرانی کرنے اور اُن پر کڑی نگاہ رکھ سکتے ہیں۔ برطانیہ  اور  ڈینش  اشتراک میں قائم اس فرم نے یہ  آلات ڈینش حکام کی اجازت سے برآمد کئے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 اپریل 2017

ایک 65 سالہ ڈینش ماہر نفسیات پیٹر کَو  اُسٹر گَو  پر شک کیا جارہا ہے کہ ہے کہ اس نے  135 غیرملکیوں کو  جعلی ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ جاری کئے تھے تاکہ انہیں  جو ڈینش شہریت کے حصول کے لئے امتحان سے چھوٹ مل جائے۔ اس ماہر نے اس الزام کو مسترد کیا ہے اور حکومت کے فیصلہ کو چیلنج کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈینش شہریت کے حصول کے طریقہ کار کو ممکنہ  جعلی میڈیکل سرٹیفیکٹ اسکینڈ سے سے بڑا دھچکہ  لگا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 مارچ 2017

ڈنمارک اور لیتھوینیا میں سفیر پاکستان منصور جنیجوہ کی مدتِ ملازمت پوری ہوگئی ہے اور وہ جون میں وزارت خارجہ میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائٰں گے۔ حکومتِ پاکستان نے ام کی جگہ  سید ذولفقار گردیزی کو ڈنمارک اور لیتھوینیا میں پاکستان کا سفیر مقرر کر دیا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 مارچ 2017

ڈنمارک  میں قانونی طور پر رہنے  والے غیر ملکیوں اور خاص کر تیسری دنیا کے ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خلاف  متعصبانہ بیانات دینے عام سی بات بن چکی ہے۔  مفروضوں کی بنیاد پر اِن غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں کو بفرت اور نسلی  تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔  اس پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے، سمیت یورپی یونین کے انسانی حقوق کے کمیشن،  ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی معتدد عالمی اور ڈینش تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے۔ ڈنمارک کو اپنے قانون و ضوابط پر نظر ثانی کرنے اور ان میں لچک پیدا کرنے کے لیے  یاد دہانی کرائی جاتی رہی ہے۔ لیکن ڈنمارک کی حکومت  اپنی اس ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 مارچ 2017

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن  ہیگن کے نواحی شہر ٹاسٹروپ میں”Helping Humanity”  یعنی  ’’مددِ انسانیت ‘‘ نامی ایک معروف تنظیم کے تحت یوم پاکستان کے سلسلے میں ایک شاندار تقریب کا بندوبست کیا گیا۔  تقریب کا  مقصد پاکستان میں فلاحی کاموں کے لیے فنڈ جمع کرنا بھی تھا ۔ اس تقریب میں پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ اردو و پنجابی زبان  کے شعرا  امجد اسلام امجد اور  انور مسعود اور خدمت خلق پر مامور رفاہی تنظیم’’اخوت فاؤنڈیشن‘‘ کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب بطور خاص شرکت ے لئے ڈنمارک آئے تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 مارچ 2017

27 فروری 2017 کو منظور کیے گئے قانون کے مطابق  یکم مارچ 2017 سے پاکستان گروپ 5 میِں شامل ملکوں میِں داخل  کر دیا گیا ہے۔ اس طرح پاکستانی شریوں کو ڈنمارک میں داخلہ کے لئے کسی قسم کے ویزا کا حصول ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 مارچ 2017

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈنمارک میں غیر ملکیوں اور مسلمانوں کے متعلق ہونے والے مباحثوں میں سیاست دانوں کا  تند و ترش  اور  قیاس آرائیوں پر منبی بیانات  کے نتیجے میں مسلمان اپنے آپ کو  باقی سماج سے الگ تھلگ رکھنے پر مجبور ہو سکتے ہیں ۔ حالیہ چند مہینوں سے  ڈنمارک میں عوامی  و سرکاری مباحث کے دوران مسلمانوں اور  اسلام پر  بیان بازی کی جارہی ہے۔ ماہرین نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بہت زیادہ منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں اور مسلمان یہ سوچنے لگے ہیں کہ ڈینش سماج میں اُن سے ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے اور انہیں سماج کا ایک حصہ کیوں نہیں سمجھا جاتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 جنوری 2017

ڈینش حکومت نے امور خارجہ کی پارلیمانی کمیٹی کو بتا دیا ہے کہ عراق میں موجود ڈینش خصوصی مہارت یافتہ ڈینش فوجیوں کو اب شام کی سرحد عبور کرنے اور وہاں عسکریت پسند اسلامی جنگجوؤں کے خلاف لڑنے کا اختیار دیا جا رہا ہے ۔ ریڈیکل، الٹرنیٹیو، ایس ایف اور بائیں بازو کی انھد لسٹن پارٹی ، سبھی اس فیصلے کے خلاف ہیں۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...