نگر نگر


  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

دلوں کے حکمران میاں نواز شریف نے پچھلے دنوں اعلان کیا کہ وہ اب ایک نظریاتی آدمی بن چکے ہیں ۔ یار لوگوں نے سابق نا اہل وزیر اعظم کے اس بیان کو بغیر سمجھے سُنا ، مگر در خُو رِ اعتنا ہی نہیں سمجھا اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کی کہ میاں نواز شریف کس نظریہ کی بات کر رہے ہیں ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میاں صاحب کے اس نظریاتی انکشاف کے بعد اُن کا ایک باقاعدہ نظریاتی انٹرویو کیا جاتا اور اس نظریے کو نہایت احتیاط سے حیطہ تحریر میں لا یا جاتا تاکہ علمِ سیاسیات کی کتابوں میں اس نئے جمہوری نظریے کو شامل کرکے شریف اکادمی ٗ سیاسیات کی اس علمی نظریاتی ایجاد کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جاتا۔ مگر یہ میڈیا کے بقراطوں ، یونیورسٹیوں کے سقراطوں اور صحافت کے افلاطونوں کی نا اہلی ہے کہ انہوں نے اس نظریاتی انکشاف کو ٹریش بیگ میں ڈال دیا ۔ یہ بہت بڑی سیاسی بے ادبی ہے کہ علم کے ہیروں کو غیر ذمہ داری کے کوئلوں سے سیاہ کرکے بالائے طاق رکھ دیا جائے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 2017

کیا میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ نواز اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے مابین اختلافات ناقابل حل ہونے کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ یا اختلافات کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ کوئی بھی اپنے نام نہاد اصولی موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اگر ان مفروضوں کو من وعن تسلیم کر لیا جائے تو سوال اٹھتا ہے کیا میاں نواز شریف کی قیادت میں نواز لیگ کے نام نہاد ‘مزاحمتی دھڑے‘ میں اتنا دم خم اور تنظیمی و سیاسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ  مزاحمتی تحریک  کے ذریعے منزل مقصود حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یا مقتدر حلقے میاں نواز شریف اور نواز لیگ کو سیاسی عمل سے خارج کرکے تاریخ کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ ان سوالوں کا جواب پانے کے لئے نواز شریف کی سیاسی زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا پڑے گی۔  

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 2017

( آزادی ایک پہاڑ ہے جسے پیٹھ پر اُٹھا کر چلنا پڑتا ہے ۔ آزادی کی متعدد قسمیں ہیں ۔ ان میں سے سب سے اہم ضمیر اور اظہار کی ٓزادی ہے ۔ اظہار کی آزادی پر نون لیگی حکومت قدغن لگانا چاہتی ہے اور ایک صحافی ارشد شریف کا ٹیسٹ کیس حال ہی میں سامنے آیا ہے، جو ایک ٹی وی چینل کے پروگرام پاور پلے کے میزبان ہیں ۔ ارشد شریف کے بعد کس کس کی باری ہے ، خُدا ہی جانے ۔ یہ صورتِ حال تشویش ناک اور قابلِ مذمت ہے )

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 2017

بندہ کس کس بات پر حیران ہو اور کس کس بات پر پریشان ہو، یہاں تو حیرانیوں اور پریشانیوں کی ایسی سیریل چل رہی ہے کہ ایک حادثے پر حیران ہو رہے ہوتے ہیں تو دوسرا سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ سب ہمارے آزاد میڈیا کی سازش ہے جن کا کاروبار گلشن انہی سانحات کے سہارے چل رہا ہے۔ کیوں کہ میڈیا کے اندر کوئی پروفیشنل ازم نظر نہیں آتا، میڈیا پر سب مسخرے اور لفافے بیٹھے ہوئے ہیں (بیشک برا منائیں معذرت میں نے بھی نہیں کرنی اور سخت الفاظ کا استعمال کرنا ہے جیسا کرو گے ایسا بھروگے)

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 2017

" بین الاقوامی قرضوں پر چلنے والے مقروض معاشرے حقیقی آزادی سے محروم ہوتے ہیں  ، کیونکہ  اس طرح کے معاشروں میں قانون کی حیثیت، لاقانونیت کے ہاتھی کے نمائشی دانتوں سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ "
درویش خانقاہی
فرد ہو یا اجتماع ، تین طرح کی قوتوں سے لیس ہوتا ہے اور تینوں قوتیں اپنی اپنی جگہ خود مُختار ہوتی ہیں ، تینوں کا ساختیہ الگ الگ ہوتا ہے اور اُن کو چلانے والے قوانین بھی الگ الگ ہوتے ہیں لیکن یہ اپنی تشکیل میں ایک ہی سرچشمے سے منسلک ہوتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 ستمبر 2017

" سیاسی مُخالفین کو تہس نہس کرنے کے بجائے اُن کے لیے بہتر نظم و ضبط اور صحت مند اختلاف کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں " ۔ درویش خانقاہی
ہم برِ صغیر کے مسلمان بُلھے شاہ کے فلسفے کے پیرو ہیں اور نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں اور کیا ہیں : مسجدوں کے مومنین ہیں یا کفر کی روایت پر قائم ہیں ۔ حُسین علیہ السسلام کے گھرانے کے حامی ہیں یا یزید کی جمہوریت کے ہم نوا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 ستمبر 2017

‘دبنگ کمانڈو‘ نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالآخر بے نظیر بھٹو کے قاتل کو بے نقاب کر ڈالا۔ بے نظیر قتل میں مفرور ملزم کمانڈو مشرف کی دبنگ دلیری نے اس وقت کروٹ لی جب پیپلز پارٹی نے ہائی کورٹ اپیل میں مشرف کو سزائے موت دینے کی استدعا کر ڈالی۔ مشرف کے منطق کے کیا کہنے کہ آصف زرداری نے اسے سزائے موت دلانے کی اپیل دائر کی ہے، اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ زردای ہی بے نظیر کا اصلی قاتل ہے۔ کمانڈو کی یادداشت کا بھی جواب نیہں کہ اسے سال ہا سال اقتدار میں رہنے کے بعد اب یہ بھی یاد آگیا کہ مرتضیٰ بھٹو کا قاتل بھی زرداری ہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 ستمبر 2017

کہا جاتا ہے کہ دُنیا کی ہر زبان اپنے وقت ، معروضی حالات اور جُغرافیئے سے متاثر ہوتی ہے۔ اور اس میں شکست وریخت کے ساتھ ساتھ نئے الفاظ ، تراکیب اور نئے معنی تشکیل پاتے رہتے ہیں۔ خود ہماری زبان اردو کا معرض وجود میں آنا اور اس کی تشکیل، ترویج اور ترقی بھی انھی عوامل کی مرہون منت ہے۔ یہ ایک الگ موضوع اور ایک الگ بحث ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 ستمبر 2017

پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھے سابق پاکستانی ، پاکستانیت کے روز مرہ معاملات میں براہِ راست  شریک نہیں  ہوتے مگر وہ محض تماشائی بھی نہیں ہیں ۔ پاکستان اور پاکستانیت اُن کا ماضی ، بچپن ، لڑکپن ، تعلیم گاہوں میں دوستی کے سلسلے اور اُن کی محبتیں ہیں ۔ دیارِ غٖیر میں پاکستان سے آنے والی خبریں سُن کر  قلب و ذہن پر ایسا تاثر مُرتب ہوتا ہے کہ پاکستان اُن کا وہ سابقہ سکول ہے جہاں کا موجودہ نصابِ تعلیم محض رسمی ہے ،  جس کی برکات سے میڈیا کے جُگتیں اور ترقی کے جھوٹے وعدے بخیر و خوبی تخلیق کیے جا سکتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 ستمبر 2017

بہت سی باتیں ہیں جن پر لکھنا چاہتا ہوں ۔ سرِ فہرست برما کے روہنگیا مسلمانوں کا رنج و الم ہے لیکن سارا پاکستان ، ترکی اور ایران اُن کی مدد کو نکلا ہوا ہے ۔ سو میرے ہمدردی کے دو لفظوں کی اوقات کیا ہوگی۔ بہت سے لوگ ایک ٹی وی اینکر کے اس بیان پر سیخ پا ہیں کہ  اُس نے یہ کیوں کہا کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر تو کوئی تھوکتا بھی نہیں ۔ پتہ نہیں وہ اینکر یہ کیوں چاہتا تھا کہ پاسپورٹ کو تھوکدان ہونا چاہیے ۔ مجھے محسوس یوں ہوتا ہے کہ لوگوں کی عقل سلامت نہیں رہی اور وہ اول فول بولنے لگے ہیں اور اول فول بیان پر اول فول قسم کا  ردِ عمل بھی مونہہ کا ذائقہ خراب ہی تو کرتا ہے ۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...